یہ سب دھوکہ تھا!

توصیف احمد خان
قوم کو مبارک ہو کہ اس کی کوششیں اور دعائیں رنگ لائیں، قومی اسمبلی نے آخرکار وہ ترمیمی بل منظور کرلیا جس کی رو سے ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے کی تمام شقیں بحال ہوگئی ہیں، یہ ترامیم گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے وجہ نزاع بنی ہوئی تھیں، آخر کیوں نہ بنتیں، یہ میرے آقا جناب رسول مقبول کی ذات کے حوالے سے مسئلہ تھا، ناموس رسالت کے حوالے سے مسئلہ تھا، آپ تو وہ ہستی ہیں جن پر ہمارے جان و مال سب کچھ قربان ، ماں باپ ، آل اولاد تک قربان ، آپ کی ناموس کیلئے یہ جان تو بڑی حقیر سی چیز ہے ۔
دو تین روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان شقوں میں ترامیم کو معطل کردیاتھا، اب قومی اسمبلی نے بھی ترامیم کی واپسی کی منظوری دیدی ہے جس کی رو سے قادیانی نہ صرف غیر مسلم رہیں گے بلکہ ان کی ووٹرلسٹیں بھی الگ ہونگی، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بہت بڑی تعداد میں قادیانیوں نے خود کو اسلام کے پردے میں چھپا رکھا ہے اور بہت کم ایسے ہونگے جو خود کو باقاعدہ قادیانی قرار دیتے ہیں، ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوگی، اس فہرست کو دیکھا جائے تو شاید یہ چند سو سے زیادہ نہ ہونگے ، حالانکہ عالمی جائزوں کو پیش نظر رکھیں تو دنیا میں قادیانی کل مسلمانوںکا ایک فیصد ہیں، اس حساب سے چند سو یا ایک دو ہزار کی لسٹ تو مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ چھپے ہوئے تمام قادیانیوں کو اسلام کے پردے سے نکال کر باہر کیا جائے۔
جب اس شق میں ترمیم کی گئی تھی تو پوری پارلیمنٹ سمیت کسی کو سمجھ ہی نہ آسکی ، کام ہی اتنا باریک تھا، حتیٰ کہ راجہ ظفر الحق بھی چکر میں آگئے، جو اسلام کو سمجھتے ہیں، قانون کو سمجھتے ہیں اور پارلیمانی معاملات خصوصاً قوانین کی ترمیم و تنسیخ سے پوری طرح آگاہ ہیں، یہ باریک کام کرنیوالے یقینا وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب زاہد حامد ہیں، جب سمجھ آئی تو کچھ تسلیم کیا اور کچھ نہیں کیا، مگر پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش کردیاگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ترمیم بھی دھوکے پر ہی مبنی تھی، پھر جمعرات کو ایک اور ترمیم پیش کردی گئی، اب ہمیں بتایاگیا ہے کہ تمام ترامیم بحال ہوگئی ہیں، کہا یہی جارہاہے مگر حکومت کے سابقہ رویّے کے پیش نظر کچھ بعید نہیں کہ یہ بھی دھوکہ ہی نہ ہو۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر قوم کا سوال برقرار ہے کہ آخر ان ترامیم کی ضرورت کیوں پیش آئی …یہ جاننا قوم کا حق ہے کہ معاملہ دنیاداری کا نہیں، معاملہ جانیں لڑادینے اور جانیں قربان کردینے کا ہے ، حکومت میں شامل افراد دینی شعائر پر عمل کرتے ہیں، خود ن لیگ کے سربراہ دین پر عمل کرتے ہیں، ان کے دیگر افعال کیا ہیں…؟ انہوں نے کرپشن کی ہے یا نہیں ، یہ علیحدہ مسئلہ ہے ، اگرچہ اس کا بنیادی تعلق دین سے ہی ہے ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرفرد کو اپنے اعمال و افعال کا خود جواب دینا ہے …ہم نے میاں نوازشریف کو امامت تک کراتے دیکھا ہے، وہ نماز بھی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں ، عقیدہ ختم نبوت پر انکا یقین غیر متزلزل ہے …وہ باری تعالی کو کیا جواب دینگے، انکا اس سارے معاملے سے معمولی سا بھی تعلق ہے تو وہ روز محشر بنی کریم کے سامنے اپنا شرم سے جھکا ہوا سرکس طرح اٹھا سکیں گے …؟ ایسی صورت میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ روز محشر شفاعت تو بعد کی بات ہے رسول اکرم کا دیدار بھی نصیب ہوگا؟ قبر میں جب آپ تشریف لائیں گے تو آپ کے پرنور چہرہ انور کو پہچان بھی پائیں گے ۔
احسن اقبال صاحب ! آپ کا تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے ، آپ خود بھی دیندار ہیں ، آپ کی والدہ محترمہ آپا نثار فاطمہ مرحومہ دینی حلقوں میں بہت مقام رکھتی تھیں …آپ فرماتے ہیں کیا ہم گلی گلی جاکر بتائیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہم نے کسی سے اپنے ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں لینا، بالکل ٹھیک ! آپ نے کسی سے سرٹیفکیٹ نہیں لینا، مگر آپ یہ تو بتادیں کہ جب یہ ترامیم کی گئیں اس وقت آپ کہاں تشریف رکھتے تھے ، آپ انگریزی کو بہت سمجھتے ہیں ، کیا آپ نے یہ ترمیمی بل پڑھے بغیر اسکے حق میں ووٹ دیا اور پھر اس کا دفاع بھی کیا، اگر پڑھ کر اور سمجھ کر ووٹ دیا تھا تو اس وقت اسلامی حمیت کہاں گئی ، کیا اس وقت آپ میں حُب ِ رسول موجود نہیں تھی، اور آپ بتائیں ، آپ ایسی صورت میں یوم حشر نبی کریم کا کس طرح سامنا کرپائیں گے۔
یہ سب کچھ ہوا ، مگر قوم تو یہ جاننے کیلئے بیقرار ہے کہ یہ کس طرح ہوا، کون اس کا ذمہ دار ہے، کس نے میرے آقا کے حوالے سے یہ باریک واردات کر ڈالی اور قوم کو ہی نہیں پوری امت مسلمہ کو دھوکہ دیا، نبی کریم کے تمام چاہنے والوں کو دھوکہ دیا ، یہ سب کچھ یوں ہی تو نہیں ہوگیا…..کوئی تو ہے جس نے امت کو اتنا بڑا دھوکہ دیا، جس نے نبی کریم کی ذات پر اس قسم کا تنازعہ کھڑا کیا …قوم اب چاہتی ہے کہ اس کو سامنے لایا جائے ، حکومت میں شامل افراد کو سب کچھ کا علم ہے، نوازشریف صاحب جانتے ہیں ، شاہد خاقان عباسی جانتے ہیں اور احسن اقبال صاحب بے خبر آپ بھی نہیں ہیں، پھر آپ قوم کو آگاہ کیوں نہیں کرتے، اس سیاہ رو سے پردہ کیوں نہیں ہٹا رہے…یاد رکھیں اس شخص یا ان اشخاص کی پردہ پوشی کرکے آپ لوگ بھی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں …رسول کریم کے حوالے سے جرم کا ارتکاب !آپ سب بڑی اچھی طرح آگا ہ ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
اس حکومت کے وزیرقانون زاہد حامد ہیں، وہ فرماتے ہیں عاشق رسول ہوں، عقیدہ ختم نبوت پر یقین رکھتا ہوں، یہ بالکل درست ہوگا، آپ کے یقین اور ایمان پر بات کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ، ہمیں آپ کے بارے میں کوئی سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں، ہم تو آپ سے صرف یہ پوچھنے کی جسارت کررہے ہیں کہ شان رسالت میں گستاخی کیسے ہوئی، آپ نہیں تو پھر کون اسکا مرتکب ہوا ، آپ اتنے بھولے بھی نہیں کہ کہہ دیں سب کچھ انجانے میں ہوا، آپ پڑھے لکھے ہیں، ماہر قانون ہیں، آپ پرویز مشرف کے ساتھ تھے اور اب ن لیگ کے بھی ساتھ ہیں، آپ کا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے ، آپ کے والد محترم بریگیڈیر(ر) حامد نواز پیپلزپارٹی کے ایم این اے رہے ، وہ بھٹو دور میں بھی ایم این اے تھے، آپ کے برعکس انہوں نے کبھی پارٹی نہیں بدلی، ہم ذاتی طور پر ان سے شناسائی رکھتے تھے، وہ جب لاہور آتے ملے بغیر نہیں جاتے تھے، بہت بھلے آدمی تھے، آپ کو ہم ذاتی طور پر نہیں جانتے ، آپ بھی بھلے آدمی ہونگے لیکن آپ کو اس سوال کا جواب بہر صورت دینا ہوگا کہ یہ سب کچھ آپ نے کیا …..آپ کے ذریعے کسی اور نے کرایا…ایسی صورت میں کون ہے جس نے کرایا اور آپ نے کیوں کیا۔
یاد رکھیں آپ نے قوم کو نہ بتایا اور اپنے اللہ سے گڑگڑا کر معافی نہ مانگی تو پھر روز محشر آپ کا گریبان ہوگا اور پوری امت کے ہاتھ…..آپ اس طرح سے جان نہیں چھڑا سکتے …محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ آپ سچے عاشق رسول ہیں، اس معاملے پر ہمیں بحث کرنے کا کوئی حق نہیں مگر آپ کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی سچے عاشق رسول ہیں، فی الحال سارے الزام کا مرکزی کردار آپ کی ذات ہے …ہو نہیں سکتا کہ اس ساری سازش میں تنہا آپ ہی شامل ہوں، آپ کیلئے مناسب یہی ہوگا کہ قوم کو پوری سازش سے آگاہ کریں اور اپنے کردار کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر معافی طلب کریں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی لغزشوں کو معاف فرمائے ۔

Thanks.Daily Khabrein

15,664 total views, 65 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *