انصاری متحدہ موومنٹ،خواب کو حقیقت بنا پائے گی؟

تحریر:محمدزاہدصدیقی
بود و نابود کے مالک کا کروڑہا بار شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایسی مخلوق میں پیدا کیا جسے شعور بھی عطا کیا۔آدم علیہ سلام سے اس کرہ ارض کو رونق بخشی،قیامت تک کے لئے نسل آدم کا آغاز کیا،جوں جوں اولاد آدم میں اضافہ ہوتا گیا،اس میں گروہ بندی،ذات پات،اعلی ادنی،رنگ نسل،قوم،برادری اور دیگر کئی حوالوں سے تقسیم بھی زیادہ ہوتی گئی۔یہاں تک کہ فی زمانہ کچھ لوگ برادری کے حوالے سے اپنے آپ کو اعلی ترین اور دوسروں کو کم ترین یا کمی تک بھی کہنے سے گریز نہیں کرتے بلکہ حد تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے صرف ان کے پیشوں کے لحاظ سے ان کے قبیلے(برادری)متعین کر دئے گئے ہیں جس کا واحد مقصد ان کو احساس کمتری کا شکار کر کے اپنے زیر سایہ رکھنا تھا۔ویسے تو کتنی ہی برادریاں کسم پرسی و احساس کمتری کا شکار ہیں لیکن ان سب میں سے آج صرف انصاری برادری پر بات ہو گی،یہ برادری آجکل قومی سطح پر سیاسی و سماجی انحطاط کا شکار اور چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ملک پاکستان میں انصاری برادری کے ڈاکٹرز، انجینیئرز،وکلائ،اساتذہ اور علماءانفرادی طور پر نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیںلیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے کم و بیش پانچ سے چھ کروڑ انصاری بھائیوں کی اکژیت کو سوچی سمجھی سازش کے تحت ذہنی دباﺅ کا شکار کر دیا گیا ہے،تابناک ماضی کو دھندلا کر شاندار مستقبل کو تاریک کر نے کی گھناﺅنی سازش کی گئی ہے۔لہذا چند احباب نے سوچا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ فکری ،عملی،اخلاقی اور سیاسی سطح پر انصاری برادری پر طاری اس زوال کے خاتمے کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے جو نہ صرف کھویا ہوا وقار بحال کرا دے بلکہ روشن اور اعلی مستقبل کا یقین بھی عطا کرے۔اس مقصد کے حصول کے لئے پہلے بھی بہت سی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں لیکن ان کی جدوجہد کا دائرہ کار انتہائی محدود ہے جو کہ کسی خاص علاقے یا شہر تک ہے۔ان کے جزوی طور پر کئے گئے اقدامات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔لہذا ضرورت تھی کہ اس کام کو کلی طور پر سرانجام دیا جائے جو ملکی سطح پر نتائج دے سکے۔چنانچہ برادری کا درد رکھنے والے کچھ لوگ ،جن میں میاں رمضان انصاری، میاں عابد ، میاں ریاض عطار ، ڈاکٹر ظفر صدیق، کامران الہی، زاہدصدیقی اور دیگرنے سوچا کہ انصاری برادری کی نشاتہ ثانیہ کے لئے ایک ایسی جماعت کی اشد ضرورت ہے جو بیک وقت تمام علاقائی نوعیت کی محدود سرگرمیوں سے بلند ہو کر انصاری برادری کے احیاءکے لیئے جدوجہد کرے،اس اہم ترین تقاضے کو پورا کرنے کے لئے انصاری متحدہ موومنٹ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ پورے ملک میں ایک ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز کرنے کے لئے اس ذمہ داری کو کمال درجہ ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ نبھانے کا عہدکیا گیا،جو نہ صرف ہماری مٹی ہوئی قدروں کو بحال کردے بلکہ سیاسی،سماجی اور فلاحی سطح پر بھی انصاری برادری کو زوال سے نکال کر غلبہ و وقار مہیا کر سکے۔اگر جذبے اور لگن کو اپنا مطمع نظر بنا کر ہر انصاری بھائی انصاری متحدہ موومنٹ کادست و بازو بن جائے تو منتشر اور متفرق سوچ کے حامل افراد کو ملکی بلکہ عالمی سطح پر ایک موثر وحدت عطا کر کے انصاری برادری کو ایک عظیم اور با وقار طاقت کے روپ میں پیش کرنا انتہائی آسان ہو جائےگا۔ یہ بات بھی پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مخلص رفقائے کار اپنی زندگیوں کو انصاری برادری کے لئے وقف کر کے اپنی جہد مسلسل اور اپنی شبانہ روز کی ان تھک کوششوں سے اس جماعت کو بام عروج تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیںتوبرادری زیادہ بہتر انداز سے ملک و قوم کی خدمت میں مگن ہوکر اپنا اور پاکستان کا نام روشن کرے گی۔ ہمارا المیہ ہے کہ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی با صلاحیت، دور اندیش، تعلیم یافتہ اور نڈر قیادت نہیں ملی، پاکستان بننے سے پہلے کی خاندانی سیاست، حادثاتی لیڈروں اور فوجی جرنیلوں نے ہم پر حکمرانی کی، جن کا قائدانہ صلاحیتوں سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔قیادت کے اسی فقدان کے باعث ادارے اور بیرونی عناصر اپنا کھیل کھیلتے ہیں ۔پاکستان میں اقتدار چند خاندانوں کے گرد گھوم رہا ہے سیاست یہاں سب سے منافع بخش کاروبار ہے جس میں مڈل کلاس، تعلیم یافتہ افراد کے داخلے کے تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں کوئی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر سیاست میں وارد نہیں ہوسکتا، غریب دو وقت کی روٹی کے لئے دھکے کھا رہا ہے وہیں امیر لوگ اپنے کتوں کی دیکھ بھال پر کروڑوں خرچ کر رہے ہیں۔ہمارے منتخب نمائندوں کی دوا دارو کے لئے بجٹ میںکروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں جبکہ عام آدمی کے لئے سردرد بخار کی پیراسیٹامول خریدنا بھی ناممکنات میں شامل کر دیا گیا ہے۔بلکہ ہمارے انہی حکمرانوں کے چمچے کڑچھے ،نوکر چاکر اپنے آقاﺅںکی آشیرآباد سے ،ان کے ناموں کو استعمال کر کے آج بڑے بڑے محلات کے مالک بن چکے ہیں۔اسی ناانصافی، ناامیدی اور استحصالی معاشرے میںامید کی جا سکتی ہے کہ انصاری متحدہ موومنٹ پہلے برادری اور پھر بلا تفریق مذہب و برادری ملک کے کونے کونے میں خوشحالی کا باعث بنے گی۔

7,705 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *