ملائیشیا نے طلاق کے بڑھتے رجحان پر قابو پالیا

لاہور(ویب ڈیسک)‌ مسلمان اکثریتی ملک ملائیشیا میں سنہ 1990ء کے دوران طلاق کی شرح 32 فی صد تھی جس جس کے باعث پورا سماج پریشان تھا مگر حکومت نے ایک ایسی پالیسی اختیار کی ہے جس کے باعث طلاق کم ہو کر8 فی صد پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق : ملائیشیا میں طلاق کی بعض ایسی وجوہات بھی سامنے آتی رہی ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طورپر نیند خراٹے مارنا، دوست کےساتھ سفر کرنا، زیادہ دیر تک شاپنگ کرتے رہنا اور خواتین کا رات کے اوقات میں گھروں میں کام وغیرہ مگر بعض ٹھوس اسباب جن میں معاشی مسائل اور شوہر کی بد دیانتی جیسے اسباب شامل ہیں۔ حکومت نے شادی بیاہ کے تعلق کو تا حیات جاری رکھنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار اپنایا ہے جو کافی کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہو اہے۔ حکومت نے طلاق کےرجحان پر قابو پانے میں مدد کے لیے ملک بھر میں مشاورتی مراکز قائم کیے جن میں شادی سے قبل شادی کے خواہش مند جوڑے کو ضروری مشاورت فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں ان تمام اشکالات سے آگاہ کیا جاتا ہے جو بعد میں طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل پر منتج ہوسکتے ہیں۔ اس طرح یہ طریقہ کافی کامیاب ثابت ہوا اور طلاق کی شرح جو معاشرے کو تباہی سے دوچار کیے ہوئے تھی کم ہو کر سنہ 2000ء میں آٹھ فی صد پر آگئی ہے۔ اس طرح شادی سے قبل نوجوانوں کو ازدواجی زندگی گذارنے کے طور طریقے سکھائے جاتے،ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور مودت کے ساتھ زندگی گذارنے اور اچھے برے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔

126 total views, 4 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *