اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے
محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے

کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے
کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے

ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے
اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے

یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر
اُسے بھی خاک میں ڈالے غلاف کر بیٹھے

ضمیر ٹوک رہا تھا انا سے دور رہو
مگر یہ ہم ہیں کہ اس کے خلاف کر بیٹھے

نظر کو آپ کی پاکیزگی ضروری ہے
ہمارے قلب کو ہم بھی ہیں صاف کر بیٹھے

ہدایتوں سے منور پیامِ حق ہے نثارؔ
اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

****
شاعر : احمد نثار، ممبئی، مہاراشٹرا

387 total views, 2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *